چرم قربانی سے تنخواہ دینا
سوال
اس موضع میں ایک مدرسہ اسلامیہ قائم ہے، دو تین مہینہ سے چندہ وصول نہیں ہوا ہے، اور نہ وصولیابی کی کوشش کی گئی ہے، اس لئے مدرسین کی تنخواہیں باقی ہیں، چرم قربانی مہتمم صاحب کے پاس جمع ہیں، ان کو فروخت کر کے کیا یہ رقم تنخواہ باقی داران میں صرف کی جاسکتی ہے؟
جواب
اگر دینے والوں نے مہتمم صاحب کی ملک کر دیا ہے اور ضروریات مدرسہ کے لئے بطور چندہ کے نہیں دیا تو اس کو فروخت کر کے تنخواہ وغیرہ میں صرف کرنا شرعاً درست ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔