قربانی کی کھال تعمیر مسجد میں
سوال
میں نے اپنے قربانی کے جانور کی کھال نیز اپنے دیگر احباب کے قربانی کے جانوروں کی کھالیں ان کی اجازت سے لیکر تعمیر مسجد کے واسطے دیدیں تو اس صورت میں کیا قربانی کے جانوروں کی کھالوں کی قیمت تعمیر مسجد پر صرف ہونا جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز نہیں تو مجھ کو نیز میرے مذکورہ بالا احباب کی نسبت حکم شرعی کیا ہے، یعنی اگر ہم نے کھالیں ناجائز طور پر دیدی ہیں تو آیا ان کھالوں کی قیمت ہم لوگوں کو دوبارہ کسی دیگر جائز امر میں دینا ضروری ہے یا نہیں؟ مسئلہ ہذا کتاب و سنت اور اہل سنت و جماعت کی مسلم کتب فقہ سے حل فرمایا جاوے؟
جواب
اگر آپ کے احباب نے وہ کھالیں آپ کی ملک کر دیں یا آپ نے وہ سب متولی مسجد کی ملک کر دیں تو پھر ان کو فروخت کر کے متولی نے یا آپ نے تعمیر مسجد میں صرف کر دیا تو درست ہے، اور اگر بغیر تملیک کے ان کو فروخت کر کے قیمت تعمیر میں خرچ کی گئی ہے تو یہ صورت ناجائز ہوئی، ایسی صورت میں ان قیمتوں کا صدقہ کرنا لازم ہے، چرم قربانی کو اگر فروخت کر دیا جائے، تو قیمت کا صدقہ کرنا ضروری ہوتا ہے،…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔