چرم قربانی مسجد میں
سوال
قربانی کی کھالیں اکثر مساجد میں دی جاتی ہیں، اور غالباً لوگوں کا بھی یہ خیال ہوتا ہے، کہ چونکہ ائمہ مساجد سال بھر تک مسجد کی خدمت کرتے ہیں، لہذا ان کے ساتھ سلوک کیا جاوے، یا دوسرے لفظوں میں سالانہ خدمت کا معاوضہ دیا جائے، چونکہ اکثر حصہ یا قلیل مقدار ایسے اماموں کی ہے جن کو زکوٰۃ دینی واجب ہے، تو کیا چرم قربانی ایسے ائمہ کو لینا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
چرم قربانی کا حکم لحم قربانی کی طرح ہے، جس کے دینے کے لئے فقیر غیر صاحب نصاب یا غیر سید ہونا لازم نہیں، بلکہ فقیر صاحب نصاب،سید سب کو دینا درست ہے، البتہ معاوضہ اور اجرت میں دینا کسی کو بھی درست نہیں، نہ امام کو نہ مؤذن کو نہ صاحب نصاب کو نہ فقیر کو نہ امام وغیرہ کو اس کا لینا جائز نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔