قیمت چرم قربانی کا مصرف مدارس میں
سوال
(۱) قیمت چرم قربانی جو مدارس میں داخل کی جاتی ہے، اس کو مدرسہ کے تصرف میں لانا بصورت حیلہ جائز ہے، یا بغیر حیلہ؟ (۲) قیمت چرم قربانی کو مدرسہ کے تصرف میں لانا میعادی ہے یا غیر میعادی؟ اگر میعادی ہے تو کتنی مدت؟
جواب
(۱) اس سے طلبہ کو نقد، کھانا کپڑا، جوتا، کتاب وغیرہ تملیکاً دینا بلا حیلہ کے بھی درست ہے، بشرطیکہ وہ مستحق ہوں یعنی صاحب نصاب اور سید نہ ہوں اور مدرسین کو تنخواہ میں دینا، تعمیر میں صرف کرنا، وقف کے لئے کتابیں وغیرہ خرید کر وقف کرنا، بغیر حیلۂ تملیک کے درست نہیں، الغرض یہ واجب التصدق ہونے کی بناء پر زکوٰۃ کے حکم میں ہے، ”فان بدل اللحم اوالجلد بہ ای بالخل وشبہہ یتصدق بہ ای…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔