الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

شہری کی گاؤں میں قربانی

سوال

شہر کا رہنے والا آدمی اگر اپنی قربانی کا جانور دیہات میں بھیج دے، جس کی وہاں قربانی کر دی جائے، اور وہ خود شہر میں ہو تو اس کی قربانی درست ہوگی یا نہیں؟

جواب

اس کی قربانی درست ہو جائے گی اس کا قربانی کے جانور کے پاس ہونا ضروری نہیں بلکہ دیہات میں ایسے شخص کی طرف سے اگر سویرے ہی قربانی کر دی جائے کہ ابھی تک شہر میں نماز عید بھی نہ ہوئی ہو تب بھی درست ہے۔ زیلعی ج۶/ص۴۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو