ایک جانور میں ایک شخص کی طرف سے جہات متعددہ کی نیت مع جواب اشرف المدارس کراچی
سوال
آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ قربانی میں ایک پوری گائے، ایک ہی شخص ذبح کرے، تو اس کی ایک ہی قربانی ہوگی، اس لئے ایک گائے میں ایک ہی شخص واجب قربانی کے ساتھ عقیقہ اور اموات کو ایصال ثواب کے لئے نفلی قربانی کی نیت نہیں کر سکتا، اس پر یہ اشکال ہے کہ شامی میں اس صورت میں سات قربانی ہونے کا بھی قول ہے، واختلفوا بالبقرة قال بعض العلماء ويقع سبعها فرضاً والباقي تطوعاً “ (رد المحتارص ۲۲۶ ج ۵)
جواب
من جانب اشرف المدارس کراچی باسم ملهم الصواب حامداً ومصلياً، تعدد قول بعض ہے جو مرجوح ہے،، بلکہ خلاف عامۃ المشائخ کی وجہ سے مجروح ہے، عامۃ المشائخ تو عہد کے قائل ہیں، اور یہی مفتی بہ ہے۔ حدیث میں بھی یوں ارشاد ہے کہ ایک گائے میں سات آدمی شریک ہو سکتے ہیں، اس کا کسی حدیث میں ثبوت نہیں ملتا کہ ایک ہی آدمی ایک گائے ذبح کرے، تو اس کی سات قربانیاں ہونگی، یا ایک ہی شخص ایک ہی گائے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔