شرکاء کی اجازت کے بغیر قربانی کے جانور کو دوسروں کو فروخت کرنا
سوال
زید نے سات آدمیوں کی شرکت کے روپے سے ایک بڑا جانور خریدا جس میں خود زید بھی شامل تھا، جب بقیہ چھ آدمیوں کو اطمینان ہو گیا کہ جانور خرید لیا گیا ہے، تب زید نے دیگر چھ آدمیوں سے اور روپیہ لے لیا اور ساتواں خود زید تھا، عید الاضحی کے دن چھ آدمیوں کی شرکت کے روپے سے جانور خریدا گیا تھا، ان کو بغیر اطلاع دیئے اور بغیر ان کی مرضی کے خاموشی سے ان دیگر چھ آدمیوں کے نام جن سے خریدنے کے بعد روپیہ لیا تھا، اور اپنے نام قربانی کر ڈالی، اور اب زید کہتا ہے کہ اپنا روپیہ لے لو اور دوسرا جانور خرید کر قربانی کرو،اب زید سے دریافت…
جواب
زید نے چھ آدمیوں سے روپیہ لے کر ان کی اجازت اور رضا مندی سے جانور خریدا تو اب ساتوں آدمی اس کے مالک ہو گئے، شرعاً جائز نہیں، کہ وہ ان چھ آدمیوں کے حصے کسی آدمی کے ہاتھ فروخت کرے، کیونکہ ان چھ آدمیوں نے زید کو اپنے حصے فروخت کرنے کا اختیار نہیں دیا، لہذا زید نے جو دوسرے چھ آدمیوں کے ہاتھ چھ حصے فروخت کئے ان کی بیع نافذ ولازم نہیں ہوئی، اور وہ پہلے چھ آدمیوں کے حصے ان کی ملک سے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔