جانور خریدنے سے پہلے شرکاء کی تعیین ہو یا بعد میں
سوال
بھینس یا بھینسا یا اونٹ خریدنے سے قبل سات آدمیوں کی شرکت کرنا اور سب سے پہلے ہی روپیہ لے لینا ضروری ہے، یا ایک شخص خریدے اور پھر حصہ دار تلاش کرے، یا چار پانچ حصہ دار شریک ہوں اور خریدنے کے بعد دو تین شریک تلاش کر لئے جائیں، شریعت میں کیا حکم ہے؟
جواب
سب طرح درست ہے لیکن اگر ساتوں شریک ہونے سے پہلے خریدے، تو غریب آدمی قربانی کی نیت سے نہ خریدے بلکہ تجارت کی نیت سے خریدے جب ساتوں شریک پورے ہو جائیں، تب قربانی کی نیت کر لیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔