کسی کے کہنے پر اپنا جانور اس کی طرف سے مفت قربانی کیا
سوال
ایک شخص پردیس میں ہے اور صاحب نصاب ہے اپنے رشتہ دار کے یہاں خط لکھ دیتا ہے کہ آپ کے یہاں جو بکرا ہے اس کو میری طرف سے قربانی کر دیں، اور رشتہ دار بلا عوض شخص مذکور کی طرف سے قربانی کر دیتا ہے اب یہ قربانی درست ہے یا نہیں؟ وجہ تو اذن ہے جو کہ فرائض و واجبات قربانی کے لئے کافی ہے، لیکن اشکال یہ ہے کہ جب رشتہ دار بلا عوض کے دے رہے ہیں تو ہبہ ہو گیا اور بکرا تو منقولات میں سے ہے اور شئی منقولات میں قبضہ شرط ہے جو یہاں مفقود ہے۔
جواب
آمر نے مامور کو وکیل بنا دیا اقتضاءً، وکیل کا قبضہ موکل کا قبضہ شمار ہو گیا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔