جب کہ قربانی کے جانور کی قیمت زیادہ اور مقدار نصاب کم ہو تو کیا کرے؟
سوال
غیر مقلد کے ایک اخبار میں یوں لکھا ہوا پایا کہ حنفی مذہب میں قربانی اس پر واجب ہے جو نصاب زکوٰۃ کا مالک ہو فرق اتنا ہے کہ زکوٰۃ سال بھر تک صاحب نصاب ہونے پر ہے، قربانی کے واسطے نہیں، اگر کوئی شخص ساٹھ ستر روپیوں کا مالک ہے صاحب نصاب ہونے کے باعث اس پر قربانی واجب ہے لیکن کسی سے اتنے داموں پر قربانی کا جانور ملنا محال ہے، قربانی کرے تو کل سرمایہ ہاتھ سے جاتا ہے نہ کرے تو ترک واجب کے گناہ کا مرتکب ہوگا اس لئے حدیث میں ہے ”مَنْ وَجَدَ سَعَةَ“ الحدیث، اس پر عمل کرنا بہتر نہیں کہ جو قربانی کرنے کی استطاعت رکھتا ہو…
جواب
چاندی کا نصاب ساڑھے باون تولہ چاندی ہے، اگر حاجت اصلیہ سے زائد کسی کے پاس قربانی کے ایام میں ہو تو اس پر قربانی واجب ہے، پانچ، چھ، سات سو روپیہ میں کڑا (قربانی کے قابل بھینس نر) آتا ہے، جس میں سات آدمی شریک ہو کر قربانی کر لیتے ہیں، نصاب کی قیمت تو اس سے بہت زیادہ ہے، اتنے میں ہی سات آدمی اپنا واجب ادا کر لیتے ہیں، اور کسی کا سرمایہ ختم نہیں ہوتا ہے، یہی ”مَنْ وَجَدَ سَعَةَ“…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔