الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کیا گھر کے سب آدمیوں کی طرف سے قربانی لازم ہے

سوال

گھر میں چند عورتیں و مرد ہیں مثلاً بیوی، ماں، بھائی، باپ، بہن، بچے، خواہ زندہ ہوں خواہ ان میں سے کچھ مردہ ہوں، اور زید کئی آدمیوں کے نام کی قربانی بوجہ عسرت نہیں کر سکتا، تو ایسی حالت میں ہر سال ایک ایک عزیز و قریب مثلاً بالا رشتہ خواہ زندہ ہوں خواہ مردہ انکے نام ایک ایک سال کرتا جائے، جس کے ذمہ زکوٰۃ واجب ہے، (بیوی یا شوہر پر کسی پر زکوٰۃ زیادہ واجب ہے، اسکے نام کی قربانی ہر سال کرے، اور باقی کی طرف سے کبھی کبھی کرتا رہے، خواہ زندہ ہوں خواہ مردہ) یا ہر سال سب کے نام کی قربانی کرے، خواہ تنگی ہو اور قرضہ لے کر کرے؟

جواب

جس کے ذمہ قربانی واجب ہے اس کو ہر سال قربانی کرنا ضروری ہے، جس کے ذمہ واجب نہیں اس کی طرف سے اختیار ہے خواہ کرے یا نہ کرے، کرنے کی صورت میں ثواب ملے گا نہ کرنے کی صورت میں گناہ نہیں ہوگا، مگر قرض لیکر کرنا درست نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو