حضرت حسین کی شہادت پر عیسائی کا اشکال
سوال
ایک معترض عیسائی کہتا ہے کہ جب حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت حضرت اسماعیل علیہ السلام سے لیکر تا امام مذکور پروردگار عالم نے امانہ محفوظ رکھ کر بعد میں حضرت امام حسین ﷺ کو عطا فرمائی، تو اس میں یزید پلید کا کیا قصور ہوا، آخر کار وہ شہادت جوازل میں امام حسین کے لئے مخصوص ہو چکی تھی، کسی نہ کسی سے وقوع میں ضرور آتی معترض کو آیت ” و من يقتل مؤمناً الخ“ سے اگر جواب دیا گیا تو منظور نہیں کیا اس کا عقلی ونقلی جواب تحریر فرمائیں؟
جواب
اگر اس عیسائی کے منہ پر کوئی شخص نجاست میں بھرا ہوا جوتہ زور سے مارے تو اس کو غصہ تو نہیں آئے گا، اور اس مارنے والے کو تو کچھ برا نہیں کہے گا، کیونکہ تقدیر میں لکھا ہوا تھا کہ منہ پر جوتہ لگے گا وہ کسی نہ کسی کے ہاتھ سے تو لگتا ہی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔