الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

محار به حسین ویزید

سوال

حضرت حسین نے یزید کی بیعت سے انکار کیا اس میں حضرت حسین کی قرآن وحدیث کی انحرافی ہوتی ہے، یا نہیں، آیت ” یا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُو الرَّسُول وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ “ بیعت کے معنی ہیں کہ حاکم وقت کی حکومت تسلیم کی جائے، یا کچھ اور حاکم وقت خواہ کسی قوم و مذہب کا ہو اور اس کے افعال جس طرح کے ہوں؟

جواب

حضرت امام حسین کے نزدیک وہ مستحق خلافت نہیں تھا اور اس کی حکومت مستقر نہیں ہوئی تھی، اسی وجہ سے اس کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی تھی کہ اگر ان کے نزدیک اس کی خلافت مستقر ہو جاتی اور بیعت کر کے پھر خلاف کرتے تو آیت کی مخالفت ہوتی۔ استقرار خلافت اور اہلیت خلافت کی شرائط میں تفصیل ہے، نہ آپ نے دریافت کی نہ مجھے لکھنے کی ضرورت، اسی طرح اطاعت اولی الامر کا مسئلہ بھی بہت مبسوط ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو