کیا حضرت حسین رضی اللہ عنہ باغی تھے
سوال
زید کا کہنا ہے کہ جب حضرت امام حسین عربی تھے، اور کوفے کے رہنے والے نہیں تھے، محض مہمان و مسافر و مدعو کئے ہوئے پہنچے، جب یزید کے حاکم مثلاً کوتوال شہر ابن زیادہ خولی وغیرہ نے یزید کی بیعت کرنے پر مجبور کیا اور فرمان دکھلایا تو اس پر حضرت سیدنا امام حسین ﷺ نے فرمایا کہ میں تو مد عو مہمان تھا، مجھ کو اپنے وطن جانے دو، تو ایسے وقت میں حضرت امام حسین کو حاکم وقت کا حکم ماننا ضروری تھا یا نہیں؟
جواب
حضرت امام حسین اس مسئلہ میں مجتہد تھے، جب وہ یزید کی بیعت کو نا جائز سمجھتے تھے، تو ان کا بیعت کرنا درست نہیں تھا، یزید کو حق نہیں تھا کہ وہ انکو مجبور کرتا کہ اپنے اجتہاد کے خلاف بیعت کریں بلکہ ایسی حالت میں اسکو چاہئے تھا کہ خلافت سے معزول ہو کر اہل اسلام کو اختیار دیدیتا کہ جس کو چاہیں خلیفہ تسلیم کر لیں اس میں نہ کوئی فتنہ ہوتا نہ قتل و خونریزی کی نوبت آتی جیسا کہ اس فتنہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔