باپ کا نفقہ بیٹے پر
سوال
کہ زید اپنے والد صاحب کو ہمیشہ پانچ روپیہ ماہوار دیتا رہا، جب سے کہ زید نے والد سے محض مجبوری کی وجہ سے علیحدگی اختیار کی اتفاقاً ایک مرتبہ جب کہ زید روپیہ مذکورہ والد کو دینے گیا تو اس نے لینے سے انکار کر دیا اور یہ جواب دیا کہ میں تو اب سے دس روپیہ لوں گا، پانچ نہیں لوں گا، حالانکہ والد مذکور کوئی غریب مفلس آدمی نہیں صاحب حیثیت ہے، ایک اور لڑکا بھی ہے جو تقریباً تیس چالیس روپیہ ماہوار کماتا ہے، اور شامل ہے اور زید کی والدہ محترمہ تجارت بھی کر رہی ہیں اور ادھر سے یہ حال ہے کہ زید صاحب عیال ہے، جس کی وجہ سے دس…
جواب
اگر دونوں لڑکوں میں مالدار اور غریب ہونے کے اعتبار سے زیادہ فرق ہے، تو والد کے نفقہ میں بھی فرق ہوگا، یعنی حسب حیثیت واجب ہوگا جب زید خود بھی صاحب عیال ہے اور اس میں اتنی گنجائش نہیں کہ والد صاحب کو دس روپیہ ماہانہ دے اور والد کا گذر اس کے روپیہ پر موقوف بھی نہیں، جب کہ وہ خود صاحب حیثیت ہے، اور اپنا خرچ خود برداشت کر سکتا ہے، تو پھر زید کے ذمہ دس روپیہ دینا واجب نہیں، بلکہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔