فاسقہ والدہ کا نفقہ
سوال
زید اپنی والدہ کی بد چلنی اپنی نظر سے ۲۴ ربرس سے متواتر اپنی چشم سے دیکھتا رہا ہے، اور نان ونفقہ دیتارہا ہے، دس سال ہوا کہ زید کی والدہ نے ایک ٹکٹ بابو ہندو سے تعلق ناجائز پھر کر لیا، پھر بھی زید خرچ اخراجات دیتا رہا، جب کہ چند مرتبہ زید نے ٹکٹ بابو سے اپنی نظر سے کثرت سے والدہ کا تعلق پایا تو دو مولوی والدہ کے روبرو کھڑے کئے اور کہا کہ تم حرام کاری سے باز آجاؤ ورنہ آئندہ خرچ دینا بند کر دوں گا، اور تم ہر وقت میرے ہمراہ رہو لیکن کچھ اثر نہ ہوا، اب زید مالدار ہو گیا ہے والدہ کرایہ کی حویلی میں رہتی تھی، زید اس…
جواب
اس ناجائز تعلق کی وجہ سے والدہ کا نفقہ ساقط نہیں ہوگا، بلکہ اگر والدہ ضرورت مند اور غریب ہو تو لڑکے کے ذمہ نفقہ واجب ہے، اور یہ بھی جائز نہیں کہ والدہ سے اس طرح قطع تعلق کر کے اس کو ہندو کے ساتھ چھوڑ دیا جائے، بلکہ حتی الامکان کوشش کرنی چاہئے کہ اس ہندو یا کسی اور سے ناجائز تعلق نہ رہے، اس لئے والدہ کو اپنے ساتھ مکان میں رکھنا چاہئے تا کہ ناجائز تعلق کی نوبت نہ آئے، اگر ضرورت…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔