یتیم بچوں کی رقم محفوظ رہے یا انکی ضرورت پر صرف کی جائے
سوال
یتیم بچوں کی کچھ رقم بچوں کے تائے کی طرف ہے، بچوں کی پرورش ان کا دادا کر رہا ہے، سر پرست دادا بچوں کے تایا سے وہ رقم لینا چاہتا ہے، اور تایا صاحب انکار کرتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ بچے سمجھ دار ہو جائیں گے اس وقت بچوں کو وہ رقم ادا کرونگا، بچوں کا سر پرست بچوں کی رقم میں سے جو ان پر خرچ کر رہا ہے، اس میں سے کاٹ سکتا ہے یا نہیں؟
جواب
جب ان کی ملک میں رقم ہے تو ان کے ضروری مصارف اس رقم سے پورے کئے جا سکتے ہیں، تایا کو انکار کا حق نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔