الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ضعیف والدین کا نفقہ

سوال

عرض ہے کہ فدوی پانچ بھائی تھے، اور ہمارے باپ ماں بھی حیات ہیں، میں سب سے بڑا بھائی ہوں اور سب میرے سے چھوٹے تھے، اور ہم سب اکٹھا رہا کرتے تھے، اور سب بھائیوں میں میں ہی کمانے کے قابل تھا کیونکہ اور بھائی چھوٹی عمر کے تھے، اور ان سب کو کام سکھائے گئے، اب ایک بھائی کا انتقال ہو گیا ہے، اس وقت چار بھائی موجود ہیں اور تین بہنیں موجود ہیں ایک بھائی جو کہ میرے سے چھوٹا اور دو سے بڑا ہے، اس کو درزی کا کام سکھایا گیا ہے، پہلے وہ اس قابل نہیں تھا کہ کچھ کما سکے سب اکٹھے اپنی گذر اوقات کرتے رہے، اور ان کو کام سکھاتے رہے جب…

جواب

اگر یہ رقم اس نے کسی سے چوری نہیں کی بلکہ خود کمائی ہے، تو یہ چوری کا مال نہیں لہذا جس کے پاس یہ رقم رکھی ہے اس کو رکھنا درست ہے، اگر ماں باپ اور بھائیوں کے مال کو چوی کر کے رقم جمع کی ہے، تو یہ چوری کا مال ہے، ایسی حالت میں اس شخص کو رقم کا رکھنا درست نہیں ہے۔ (۱) اس رقم کے اندر ماں باپ، بھائی، بہنوں کا حق ہے، یا نہیں۔ (۲)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو