دو بیویوں کے درمیان برابری اور بیماری کی وجہ سے بیوی کو طلاق دینا
سوال
زید کا عقد جمیلہ کے ساتھ ہوا اور خلوت صحیحہ سے قبل جمیلہ پر فالج گرگئی جس کی وجہ سے وہ چل پھر نہیں سکتی، بعدۂ خلوت صحیحہ ہوئی، زید نے دوسرا عقد حبیبہ کے ساتھ کیا، زید دونوں کے اخراجات بہترین اشیاء کے ساتھ نہیں کر سکتا زید حبیبہ کے سارے اخراجات قیمتی اشیاء کے ساتھ کرتا ہے اور جمیلہ کو اوسط درجے کا کپڑا دیتا ہے، کیونکہ وہ گھر نہیں آسکتی، تو کیا زید اس صورت میں گنہ گار ہوگا؟ اور کیا زید کا جمیلہ کو طلاق دینا بہتر ہے، یا ایسے ہی اخراجات کے ساتھ زندگی بسر کرنا؟ کس صورت میں زید گنہ گار ہوگا؟ مفصل جواب تحریر فرمائیں۔
جواب
دونوں بیویوں کے لئے کپڑے وغیرہ کا خرچ یکساں دینا چاہئے، ایک کو بڑھیا اور ایک گھٹیا دینا حق تلفی ہے بیماری کی وجہ سے طلاق دیدینا بے مروتی ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔