بیوہ اور حاجتمند لڑکی کو مکان دینا
سوال
زید کے چار اولاد ہیں، پہلی بیوی سے ایک لڑکی بعد کی دوسری بیوی سے دولڑکیاں اور ایک لڑکا، سب شادی شدہ ہیں، پہلی بیوی کی لڑکی بیوہ ہے، دوسری بعد کی بیوی کا انتقال ۱۹۴۰ء میں ہوا، جب ہی سے پہلی بیوی کی لڑکی خدمت کر رہی ہے، اس کو رہنے کے لئے مکان نہیں ہے، اس وجہ سے زید اپنے مکان میں سے اس لڑکی کو اس کے رہنے کے لئے مکان دینا چاہتا ہے، یہ فعل دوسری بیوی کی اولاد کو نا گوار ہے، اور اس وجہ سے باپ کے ساتھ حسن سلوک کا برتاؤ نہیں ہے، زید کا اپنی بیوہ لڑکی کو اپنی زندگی میں مکان دینا شرعاً درست ہے یا نہیں؟
جواب
پہلی مرحومہ بیوی سے پیدا شدہ بیوہ لڑکی کو اس کی ضرورت وحاجت نیز اس کی خدمت کی وجہ سے اپنی زندگی میں اپنے مکان میں سے رہنے کے لئے مکان دینا شرعاً درست ہے، دوسری بیوی سے پیدا شدہ اولاد کو محروم کرنا یا نقصان پہنچانا مقصود نہیں ہونا چاہئے ورنہ ظلم اور گناہ ہوگا جب وہ بیوہ لڑکی اپنے والد کی خدمت کرتی ہے اور حاجت مند ہے تو دوسری بیوی کی اولاد کو ناراض نہیں ہونا چاہئے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔