بیوی کا علیحدہ مکان کا مطالبہ اور نشوز کی صورت میں نفقہ
سوال
حامد نے نعیمہ کے ساتھ نکاح کیا اور بعد رخصتی کے نعیمہ کو اپنے مکان پر لے جا کر اسی مکان میں رکھا جس میں حامد کے ماں باپ بھائی وغیرہ رہتے تھے، دستور کے موافق نعیمہ کبھی کبھی اپنے والدین کے یہاں آتی جاتی رہی، دس، گیارہ، ماہ نعیمہ سرال میں رہی، مگر ساس سسر اور شوہر کی بد خلقی اور بدگوئی کی وجہ سے بہت رنج اور صدمہ رہتا تھا، آخر وہ مریض ہو کر سسرال والوں کے مشورہ سے والدین کے گھر آئی اور علاج کے بعد آرام ہو گیا، ان ایام میں اس نے اپنے والدین سے سسرال والوں کی بدسلوکی کو ظاہر نہیں کیا، تندرستی وصحت کے بعد ساس سسر اور شو…
جواب
مرد کے ذمہ واجب ہے کہ عورت کو ایک مکان علاحدہ رہنے کے لئے دے کہ اس مکان میں شوہر کے ماں باپ بھائی بہن وغیرہ نہ رہتے ہوں، بلکہ وہ پورا بیوی کے قبضہ وتصرف میں ہو، اور مکان سے مراد ایک کمرہ یا کوٹھا ہے، جس کو عربی میں بیت کہتے ہیں، لہذا اگر صحن وغیرہ مشترک ہو جس کو شوہر کے دوسرے عزیز بھی استعمال کرتے ہوں اور بیوی بھی، تو اس کو مطالبہ کا حق نہیں کہ میرا صحن بھی مستقل ہونا چاہئے،…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔