زوجہ کا تعنت اور زیادتی
سوال
ہندہ زید کی زوجہ کچھ روز سے اپنے شوہر کے ساتھ ہر وقت بیکار اور لایعنی باتیں نکال کر جھگڑا کرتی رہتی تھی، آخر ایک دن اپنے شوہر سے جھگڑے کے درمیان یہ کہا کہ مجھ سے اور تم سے زن وشوہر والے تعلقات آج سے نہیں اور میں یہ تعلقات ختم کرتی ہوں، اس کے بعد کسی بہانہ سے وہ اپنے میکہ چلی گئی اور وہیں رہ کر نہایت آزادی سے خلاف شرع گزارہ کرتی رہی، اور اس درمیان میں زید اپنی مسلسل مہذب کوشش اس کو لانے کی کرتا رہا، یہاں تک کہ زید نے اس کے مکان پر جا کر اس کو اپنے ساتھ چلنے کے لئے کہا لیکن وہ اس کے ساتھ آنے کو تیار نہ ہوئی اور آنے…
جواب
ہندہ اس واقعہ میں یقیناً مجرم اور گنہگار ہے، وہ نفقہ کی مستحق نہیں، جب تک شوہر کے مکان پر واپس نہ چلی جائے شوہر کو چاہیئے کہ ہندہ سے دریافت کرے کہ تم کو کیا تکلیف ہے، اگر وہ کوئی معقول بات کہے تو اس کا انتظام کرے، ورنہ اہلِ خاندان کے ذریعہ اس کو اپنے مکان پر لانے کی کوشش کرے، یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ اگر ہندہ نہ آئی تو میں دوسری شادی کرلوں گا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔