بلا رخصتی کے وجوب نفقہ
سوال
زید کا نکاح ہوا رخصتی عرفی نہیں ہوئی مگر خلوت ہو چکی نیز جب کبھی زید عورت کے میکے میں گیا تو اس کو خلوت کا موقع دیا گیا، مگر جب زید نے چاہا کہ زوجہ کو اپنے ساتھ رکھے تو زوجہ نے انکار کر دیا کہ اتنی مدت مثلاً دو سال تک ہم تمہارے ساتھ نہیں رہتے اور باوجود اصرار زید کے انکار رہا، اس صورت میں زوجہ کا نفقہ شوہر پر واجب ہے یا نہیں؟
جواب
(۱) زوجہ کا نفقہ جزاء احتباس ہے جو کہ صورت مسئولہ میں مفقود ہے پس واجب نہیں ہوگا، مگر یہ رخصتی سے امتناع مطالبہ مہر کی بناء پر ہو تو واجب ہوگا: وان امتنعت عن تسليم نفسها قبل الدخول او بعده عناية اهـ حتى يعطيها مهرها فلها النفقة لانه منع بحق فكان فوت الاحتباس لمعنى من قبله فيجعل كلافائت اهـ فتح القدير ص ۲۲۴ / ج ۲ واذا طالبها بالانتقال وامتنعت بغير حق فلا نفقة لها اهـ مجمع…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔