الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

عورت کا نفقہ شوہر کے ذمہ ہے، یا سوتیلے لڑکے کے ذمہ؟

سوال

ایک شخص جس کی عمر جب چار سال کی تھی تو اس کے والد کا انتقال ہو گیا، کچھ عرصہ کے بعد اس کی والدہ نے دوسرا نکاح کر لیا لیکن وہ اپنی والدہ اور سوتیلے باپ کے پاس رہتا رہا، یہاں تک کہ انہوں نے دس بارہ سال اس کی تعلیم وتربیت کی اور وہ اپنا کھانا کھانے لگا،اس دوران اس کی والدہ کو نئے شوہر سے تین چار بچے ہوئے اور ان کو سب بچوں کو لے کر شوہر سے دور اپنے لڑکے کے ساتھ آٹھ نو سال کا عرصہ رہتے ہو گیا، اس نے ہر طرح سے ان کا خرچہ برداشت کیا، کھانے پینے سے، سوتیلے بھائی بہنوں کی تعلیم وتربیت سے ہر نقطہ نظر سے خرچہ کیا، اس دوران…

جواب

جب کہ والدہ کا شوہر موجود ہے تو والدہ کا خرچ شوہر پر واجب ہے، اولاد پر واجب نہیں ہے ہاں اگر والدہ شوہر کے پاس رہنے کے باوجود تنگدست ہو یا شوہر خرچ نہ دیتا ہو تو پھر سب کمانے والی اولاد پر برابر خرچ واجب ہوگا، جن بچوں کا باپ موجود ہے، ان کا خرچ باپ کے ذمہ ہے، والدہ کے مزاج میں اگر واقعہ فتنہ ہے تو ان کو شوہر کے پاس رکھا جائے البتہ ان کا احترام بھی لازم ہوگا، گاہے گاہے ان کی…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو