الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نان نفقہ کا انتظام کب تک کرتی رہے

سوال

زید اس دو سال کے عرصہ میں باروزگار ہوتے ہوئے بھی نفقہ وسکنی میں خسر کے سر رہا جب کہ نکاح سے قبل کہا تھا، کہ خود کفیل ہوں، تادم تحریر مکان کا بندوبست نہیں کیا اور نہ نان ونفقہ کا انتظام ہے، اب زوجہ اپنے میکہ میں رہتی ہے، اور مطالبہ کرتی ہے کہ نان ونفقہ اور رہائش کا بندو بست کرے یا ہمیں مکمل علیحدہ کر دے تا کہ دوسرے بندوبست کر سکوں، اس کا یہ مطالبہ شرعاً کہاں تک جائز ہے؟ (۲) اس مطالبہ سے علیحدگی پر وہ اپنے مہر واخراجات عدت وغیرہ کی مستحق ہوگی یا نہیں؟ (۳)

جواب

(۱) بیوی کا یہ مطالبہ شرعاً صحیح ہے۔ (۲) مستحق ہوگئی ہے (۳) جب تک برداشت کر سکے، تاہم اس کو حق ہے کہ وہ مسلم عدالت یا شرعی پنچایت کی طرف رجوع کرے اور شرعی فیصلہ وہاں سے حاصل کرائے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو