الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

زوجہ کا نفقہ وسکنی کیا شوہر کے ذمہ ہے

سوال

ایک عورت بالغہ ہے، اپنے شوہر سے یوں کہتی ہے کہ جب تو خود کمانے کے لائق نہیں، اور جب تک تو اپنی کمائی سے نہ کھلائے گا، اور علیحدہ مکان رہنے کو نہ دے گا، تب تک اپنے باپ کے گھر سے نہ آؤں گی، اور یہ حقوق شرعاً جو تیرے ذمہ ہے میں نہیں چاہتی کہ کسی دوسرے سے اپنا حق خواہ خسر ہو حاصل کروں، لہذا جب تو علیحدہ مکان رہنے کو دے گا اور اپنی کمائی سے کھلاوے گا، اس وقت آنے سے انکار نہ ہوگا، لہذا دریافت یہ کرنا ہے، کہ عورت کا مذکورہ بالا مطالبہ درست ہے، یا نہیں؟

جواب

زوجہ کے لئے علیحدہ مکان دینا واجب ہے اور مکان سے مراد یہ ہے کہ ایک کمرہ یا کوٹھا ایسا ہو جس میں کسی دوسرے کی رہائش نہ ہو، اگر چہ صحن اور دیگر ضروریات میں دوسرے بھی شریک ہوں اگر شوہر ایسا کوٹھا نہ دے تو زوجہ کو حق ہے، کہ شوہر کے رشتہ داروں کے ساتھ رہنے سے انکار کر دے اور شوہر کو حق نہیں کہ زوجہ کو دوسرے رشتہ داروں کے ساتھ رہنے پر مجبور کرے عورت کو یہ مطالبہ کرنا شرعاً درست…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو