دو عدتوں کا تداخل
سوال
ایک عورت جو ابھی عدت وفات گزار رہی تھی، اور ابھی تین ماہ تیرہ روز ہی گزرے تھے کہ ایک شخص نے اس سے نکاح جائز سمجھتے ہوئے نکاح کر لیا، اور نکاح کے بعد وہ حاملہ ہوگئی، تو کیا یہ نکاح ثانی فاسد ہوگا یا باطل یعنی عدت وفات کی مقدار سے حمل معتبر ہوگا، یا کہ نہیں اگر یہ نکاح فاسد قرار دیا جائے، تو کیا تفریق یا متارکت کے بعد کا ہے، اس صورت میں خلجان یہ ہے کہ اگر شوہر اول کی وفات کے بعد زوجہ کے انقضائے عدت کے عدم اقرار کی صورت میں دوسال کے اندر اندر وہ حمل شوہر اول سے ثابت ہوگا، نہ کہ نکاح فاسد کرنے والے سے تو کیا اس صورت…
جواب
(شامی نعمانی ص: ۶۰۹، ج:۲) خواہ یہ عمل زنا سے ہو یا وطی بالشبہ سے،خواہ نکاح فاسد سے ہو حالت عدت میں نکاح جائز نہیں ہے، لِقَوْلِهِ تَعَالیٰ وَلَا تَعْزِمُوا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ زنا کی وجہ سے حد لازم ہوگی، لِقَوْلِهِ تَعَالَى الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ شبہات کی وجہ سے حد ساقط ہو جاتی ہے،…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔