الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اسقاط سے انقضاء عدت اور حالات جنین

سوال

(۱) اسقاط سے عدت پوری ہو گئی یا نہیں؟ (۲) اگر عدت پوری نہیں ہوئی تو خاوند کو بغیر بیوی کی مرضی کے رجعت کا حق ہے یا نہیں؟ (۳) تکوین حمل میں ڈاکٹروں کی رائے ہے کہ پہلے ماہ میں یہ کیفیت ہوتی ہے دوسرے ماہ دوسرے ماہ میں لمبائی جنین تقریباً ۳ رانچ، وزن ایک گرام، سر آنکھ کان ہاتھ پیر کے نشانات اور ریڑھ کے سرے الگ الگ نشانات ظاہر کرتے ہیں، تیسرے ماہ لمبائی ۳ رانچ، وزن ۳ گرام انگلیوں کے نشان معلوم ہونے لگتے ہیں، چوتھے ماہ لمبائی ۶ رانچ، وزن ۱۵ اونس، اعضاء تناسل زنانه مردانہ پچانے جاسکتے ہیں، پانچویں ماہ جنین کی لمبائی ۹…

جواب

(۱) اگر سقط میں بعض خلقت ظاہر ہوگئی تھی، جو کہ عامۃً چار ماہ میں ظاہر ہو جاتی ہے، تو عدت پوری ہوگئی، ظهر بعض خلقه کید او رجل او اصبع اوظهر او شعر ولا يستبين خلقه الا بعد مائة وعشرين يوماً ولد حكماً فتصير المرأة به نفساء وتنقضى به العدة فان لم يظهر له شيئ فليس بشئ اهـ در مختار قوله ولا يستبين خلقه قال الشامي في بعض روايات الصحيح اذا مر بالنطفة ثنتان واربعون ليلة بعث الله اليها…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو