الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

معتدہ کو صحن میں جانا

سوال

کیا معتدہ الوفات مشترک مکان کے صحن میں جاسکتی ہے، قاضی خاں جلد اول ص: ۱۰۲ ر پر یہ ہے: وللمعتدة الخروج الى صحن الدار فان كانت الدار مشتملة على بيوت وفي كل بيت اهل لا تخرج الى صحن الدار، فتح القدير جلد ۳، ص: ۲۹۸، پر یہ ہے۔ ولا تخرج المعتدة الى صحن الدار التي فيها منازل الاجانب لانه كالخروج الى السكة فان لم يكن في الدار منازل بل بيوت جازلها الخروج الى صحنها ولا تصير به خارجة عن الدار.

جواب

معتدہ الوفاۃ کیلئے مشترک مکان کے صحن میں جانا اور اپنے مکان سے باہر نکلنا نیز رات کا کچھ حصہ دوسری جگہ گزارنا حسب ضرورت وحاجت درست ہے: والمتوفى عنها زوجها لا بأس بان تتغيب عن بيتها اقل من نصف الليل قال شمس الائمة الحلواني وهذا الرواية صحيحة اهـ بحر ص: ۱۶۷، ج ۴، فتاوی قاضی خان کی عبارت میں معتدة الطلاق کا حکم عدم خروج بیان کیا گیا ہے، جیسا کہ اس کے بعد والا جزئیہ اس پر دال ہے،…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو