الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

زوجه متعنت

سوال

میاں بیوی میں تنازع ہو کر بڑھ گیا اور بیوی کو اپنی جان کا خطرہ ہو گیا اور اپنے خاوند کے یہاں بوجہ خطرہ جان کے نہیں جاتی، اور اس کا خاوند اس کو طلاق نہیں دیتا، اور نہ خرچ اس قصہ میں پانچ چھ سال گزر گئے اور لڑکی نوجوان ہے، بغیر نکاح کے گذران مشکل ہے، اس صورت میں شریعت شریف کیا فیصلہ دیتی ہے، کہ جس سے میاں بیوی میں تفریق ہو جاوے اور لڑکی کا نکاح کر دیا جائے۔

جواب

ایسی صورت میں بہتر یہ ہے کہ کسی طرح لالچ دیکر یا ڈرا کر طلاق حاصل کر لی جاوے یا خلع کر لیا جائے اگر یہ نا ممکن ہو تو پھر بیوی کو چاہئے کہ حاکم مسلم کی عدالت میں مقدمہ پیش کرے کہ فلاں شخص میرا شوہر ہے اور میرے حقوق ادا نہیں کرتا اسپر حاکم با قاعدہ واقعہ کی تحقیق کرے اگر عورت کا دعوی صحیح ثابت ہو تو شوہر سے کہے کہ تم یا تو اسکے حقوق ادا کرو یا طلاق دے دو، اگر وہ کسی بات کو…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو