شوہر کے نامرد ہو نیکی حالت میں غیر مرد سے تعلق قائم کرنا
سوال
میری شادی مسمی غلام احمد کے ہمراہ ہوئی کہ جس کو عرصہ تخمینا بارہ یا تیرہ سال گذرا چند روز تو مجھ کو میرے شوہر مذکور نے اپنی زوجیت میں رکھا، جس سے معلوم ہوا کہ وہ قابل عورت نہیں ہے، چند روز کے بعد مجھ کو شوہر نے میرے والد کے گھر پہنچادیا اور ہنوز کوئی خبر اخراجات کی نہیں لی، میری شادی سے پیشتر دوشادی مسمی غلام احمد کی ہو چکی ہیں، دونوں بیویاں بوجہ نامرد ہونے کے اس کے گھر سے چلی گئیں، اور دوسری جگہ دونوں نے اپنی اپنی شادی کر لی بلا طلاق دیئے ہوئے غلام احمد کے ساتھ مجبور ہو کر اپنی گذر بسر بحیثیت مزدوری کر کے کرتی…
جواب
جب تک تمہارا شوہر غلام احمد طلاق نہ دے اس وقت تک تمہارا نکاح کسی دوسری جگہ درست نہیں ہے اور یہ بات کہ ایسا کام جس سے شوہر کی ناراضگی ہو یا اس کی عفت میں فرق آجاوے اس کی بیوی کرے تو نکاح سے باہر ہو جاتی ہے، بالکل غلط ہے، شرعاً اس کی کوئی اصل نہیں، پس تمہارا کسی غیر شخص سے تعلق پیدا کر کے محبت کرنا قطعاً حرام اور زنا ہے اور جو بچہ اس حرام کاری سے پیدا ہوا ہے، اور غلام احمد کہتا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔