زوجہ مجنون کا حکم
سوال
بسم الله الرحمن الرحیم ایک عورت کے شوہر کا دماغ شادی کے تین ماہ بعد خراب ہو گیا اور اس کو دنیا ومافیہا کی مطلق کوئی خبر نہ رہی اس کا با قاعدہ پاگل خانہ میں رکھ کر علاج بھی کرایا گیا مگر کوئی فائدہ نہ ہوا گورنمنٹ نے بھی اس کو ملازمت سے علیحدہ کر کے پانچ روپیہ پیشن کر دی جو اس کے بھائی وصول کر کے اس پر خرچ کرتے ہیں، اب اگر اس سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ اپنی عورت کو طلاق دیدے تو کبھی تو کسی پتہ کو اٹھا کر کہتا ہے کہ یہ طلاق نامہ ہے کبھی کسی ردی کاغذ کو کہ یہ طلاق نامہ ہے، اور کبھی اچھے آدمیوں کی طرح کہتا ہے کہ میں نے…
جواب
اس کے بھائی وغیرہ کوئی اس کو طلاق نہیں دے سکتے اگر اس نے اپنی عقل وہوش کی درستگی کی حالت میں طلاق دی ہے تو وہ شرعاً واقع ہوگئی اور اگر بحالت جنون طلاق دی ہے تو وہ شرعاً واقع نہ ہوگی اور اس کا اندازہ وقت طلاق کے دیگر امور واحوال سے ہو سکتا ہے بصورت عدم وقوع طلاق اگر جنون خطرناک ہو جس سے کہ عورت کو قتل یا نا قابل برداشت اذیت کا اندیشہ ہو تو عورت کو چاہئے کہ حاکم مسلم با اختیار…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔