الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

شوہر بیوی کے حقوق ادا نہیں کرتا تو بیوی کیا کرے

سوال

زید نے اپنی زوجہ ہندہ کو عرصہ تین چار سال سے معلقہ چھوڑ رکھا ہے، نہ نان نفقہ کی خبر لیتا ہے، نہ کبھی اس کے پاس آتا ہے، اور نہ کبھی زوجہ کو بلاتا ہے، اور اس ہندہ کو کوئی رکھنے والا بھی نہیں ہے، اس مسماۃ کا باپ ضعیف ہے، اس کے پاس بھی مکان وغیرہ نہیں ہے، اور نہ کوئی آمدنی ہے جو لڑکی کو رکھ سکے، اور نہ زید کا کوئی مکان ہے، جو یہ مسماۃ اس کے گھر ہی جا کر رہ سکے، اور نہ زید کے کوئی اور جائداد ہے کہ نان نفقہ کا دعویٰ کر کے کچھ وصول کر لیا جائے، اور گذارہ کیا جائے، ایک مرتبہ بہت کوشش کر کے کلکتہ سے دھوکا دے کر بلایا تھا،…

جواب

ایسی صورت میں بہتر یہ ہے کہ کسی طرح سمجھا بجھا کر یا لالچ دے کر یا خوف دلا کر رضا مندی سے یا بلا رضا مندی اس سے طلاق لے لی جائے، یا خلع کر لیا جائے اگر یہ ممکن نہ ہو تو عورت کو چاہیئے کہ حاکم مسلم با اختیار کی عدالت میں مقدمہ پیش کرے اور باقاعدہ ثبوت دے کہ فلاں شخص میرا شوہر ہے اور میرے حقوق کو ادا نہیں کرتا اس پر حاکم اس کو بلا کر سمجھائے کہ تو اپنی زوجہ کے حقوق کو ادا کر اگر…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو