الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تفریق کا حکم

سوال

مریم کا نکاح محمد اسحاق کے ساتھ عرصہ بیس سال پہلے ہوا تھا جب کہ مریم کی عمر سات سال تھی، وہ نابالغہ تھی، بعد از شادی آج تک محمد اسحاق مریم کو اپنے گھر نہیں لے گیا، نہ کوئی نان وپارچه دیا نه حق زوجیت ادا کیا، اب مریم بالغہ ہو گئی ہے وہ اپنا نکاح ثانی دیگر شخص کے ساتھ کرنا چاہتی ہے، مریم عدالت سے بھی آزاد کر دی گئی ہے، کیا ایسی صورت میں مریم مذکور کو طلاق شرعاً ہو گئی۔ (۲) مریم اپنا نکاح دیگر شخص سے کر سکتی ہے؟ (۳) مریم اپنے سابق شوہر سے مہر وصول کر سکتی ہے؟

جواب

(۱) اتنی مدت تک نان پارچہ نہ دینے، خیر خبر نہ لینے، حق زوجیت ادا نہ کرنے سے شرعاً طلاق نہیں ہوئی ہے (۲) ابھی نہیں کر سکتی، (۳) اگر خلوت صحیحہ ہو چکی ہے تو پورے مہر کی حق دار ہے ورنہ نصف مہر کی حقدار ہے مسماۃ مریم کو چاہئے، کہ اپنے اس شوہر سے طلاق حاصل کر لے یا خلع کر لے اس طرح کہ مریم مہر معاف کر دے اور شوہر حق زوجیت ساقط کر دے، اگر اس میں کامیابی نہ ہو، تو چند معزز دیندار…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو