الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

شوہر پاگل ہو گیا تھا مگر اب اچھا ہو گیا اس کی بیوی کا نکاح

سوال

ہمارا لڑکا عثمان غنی جسکی عمر ۲۰ سال ہے، عثمان کی شادی آج تقریباً چار سال ہوئے جعفر کی لڑکی کیساتھ ہوئی ہے، شادی کے دو سال کے بعد لڑکے کا دماغ خراب ہو گیا تھا، علاج کیا گیا اب اسکی حالت بالکل ٹھیک ہے اور لڑکا اب بالکل ہوش وحواس میں ہے، مگر لڑکی کے والدین اب اس سے طلاق مانگ رہے ہیں، اور لڑکی کی شادی دوسری جگہ کرنا چاہتے ہیں، اور آپکے پاس فتوی لکھ کر بھیجا ہے کہ کسی طرح لڑکے کو دیوانہ قرار دیکر ایک فتوی مل جائے، اور ہم لڑکی کو دوسری جگہ بٹھلا دیں، ایسی حالت میں لڑکی کا نکاح دوسری جگہ نا جائز ہے یا جائز ہے؟

جواب

اگر شوہر کا دماغ صحیح ہے، اور وہ بیوی کے حقوق ادا کرتا ہے، تو اس کی بیوی کو شوہر سے طلاق لینے کا حق حاصل نہیں، اصل مسئلہ تو یہ ہے کہ اگر کوئی شخص حالات بتا کر فتوی حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس کی ذمہ داری خود اس پر ہے، مفتی عالم غیب نہیں ہے، مثلاً اگر کوئی شخص خنزیر کا گوشت خرید کر لائے اور مفتی سے کہے کہ یہ بکری کا گوشت ہے، اور بکری کو شرعی طور پر ذبح کیا گیا ہے یہ حلال ہے یا…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو