زوجه مجنون
سوال
ایک شخص تقریباً چھ سال سے مجنون ہو گیا ہے اور معمولی علاج بھی کیا گیا مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا، اور اسکے خسر نے علاج کارگر نہ ہونے پر اپنی لڑکی کو دوسری جگہ بیٹھانا چاہا، مگر اسکے گاؤں کے لوگ آڑے آئے اور اس مجنون کی بیوی کو زبردستی اس مجنون کے باپ کے یہاں بھیج دیا اور وہ مجنون باپ کے پاس رہتا ہے، مگر اپنے بڑ بڑانے میں رہتا ہے اور اسکی بیوی کو تقریباً چھ سال آئے ہوئے ہو گئے، وہ مجنون ہم بستری تو کیا کرتا وہ اپنی دیوانگی میں کہہ دیتا ہے کہ یہ میری لڑکی ہے اور ساتھ ہی اپنی بہنوں کو کہہ دیتا ہے کہ یہ میری لڑکیاں ہیں…
جواب
اگر حالت جنون میں طلاق دے گا تو طلاق واقع نہیں ہوگی اگر افاقہ کی حالت میں دے گا تو واقع ہو جائے گی: ولا يقع طلاق الصبى وان كان يعقل والمجنون اه هنديه ص: ۳۸۳، ج: ۲، بغیر طلاق کے نکاح مطلقاً حرام ہے: لا يجوز للرجل ان يتزوج زوجة غیره وکذالک المعتدة كذا فى السراج الوهاج اها ص: ۲۸، ج: ۲.
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔