الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

زوجہ عنین کے واسطے عدالت کا فیصلہ

سوال

عرصہ تقریباً تین سال سے صاحبزادی کا مقدمہ صدر شاہ پور جناب سب حج صاحب کے پاس گیا کہ میرا خاوند پیدائشی نامرد ہے اور حقوقِ زوجیت ادا کرنے کے نا قابل ہے، جس پر عدالت موصوف نے مدعلی علیہ کا ڈاکٹری معائنہ کرایا اور ڈاکٹر صاحب کی شہادت بھی لی گئی، اور چند دیگر شہادتیں بھی ہوئیں، ڈاکٹر کا بیان یہ ہے کہ مدعلی علیہ کو انتشار نہیں ہوتا، اور حکیم یونانی کا بیان یہ ہے کہ ہم نے مدعی علیہ کا پندرہ روز تک علاج کیا، کچھ فائدہ نہیں ہوا اور ہمارے سامنے مدعیٰ علیہ نے اقرار کیا کہ میں نامرد ہوں، میری نامردی کا علاج کیا گیا کچھ فائدہ…

جواب

اگر عورت کو بوقت عقد نکاح شوہر کا نامرد ہونا معلوم نہیں تھا، اور معلوم ہونے کے بعد اس نے اس کے ساتھ رہنے پر کبھی رضا مندی ظاہر نہیں کی اور وہ شخص اتنے عرصہ تک ایک مرتبہ بھی جماع نہیں کر سکا، اور عورت نے حاکم مسلم با اختیار کی عدالت میں مقدمہ پیش کیا اور حاکم نے تحقیق کے بعد ایک سال کی مدت علاج کے لئے مقرر کر دی اور وہ اس مدت میں بھی علاج کر کے جماع پر قادر نہیں ہوا اور پھر…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو