زوجہ عنین کی درخواست تفریق پر شرعی پنچایت کے چند سوالات
سوال
مندرجہ ذیل صورت میں آپکی رائے گرامی شریعت کی روشنی میں مطلوب ہے۔ ہندہ ایک پردہ نشین بالغہ خاتون ہے، اس کا نکاح زید سے ہوا، زید پیدائشی عنین اور ناکارہ ہے، ہندہ اس کے عیب پر تقریباً تین سال تک پردہ ڈالتی رہی، کیونکہ زید نے اس سے اپنے علاج کرانے کا وعدہ کیا، دو سال بلکہ اس سے زائد عرصہ گزر گیا مگر زید اپنے اس عیب سے بری نہ ہوا، ہندہ اس حال میں اپنی زندگی گزارنے سے قاصر ہے، نیز زید کے گھریلو حالات بھی اس کے لئے انتہائی ناسازگار ہیں، جن کی وجہ سے اس نے اپنے والدین کے سامنے اس راز کو افشاء کر دیا، ہندہ کے باپ نے زید سے…
جواب
(۱) اس کو ایک سال مہلت علاج کے لئے دی جائے۔ (۲) سارٹیفکٹ کافی نہیں بلکہ بیوی سے جماع کرنے سے ثبوت ہوگا۔ (۳) دوبارہ نوٹس دیا جائے اور اس میں لکھ دیا جائے کہ اگر تم نہ آئے تو ہم سمجھیں گے، کہ تم رکھنا نہیں چاہتے بلکہ تعلق زوجیت ختم کرنا چاہتے ہو، اس پر ہم تفریق کر دیں گے۔ (۴)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔