شوہر کو دوبارہ اطلاع کئے بغیر تفریق
سوال
ہندہ کا نکاح زید کے ساتھ ہوا اور رخصتی بھی ہوگئی، کچھ عرصہ کے بعد میاں بیوی کے درمیان کچھ نا اتفاقی پیدا ہوگئی، جس کے باعث پانچ سال تک ہندہ اپنے میکہ میں پڑی رہی، نہ زید اپنے گھر لے گیا، نہ نفقہ کا انتظام کیا، نہ حقوق زوجیت ادا کیا، پانچ سال کا عرصہ گذر جانے کے بعد ہندہ کے والد بکر نے ایک عالم دین کی سر پرستی میں ایک پنچایت مقرر کیا، مقررہ پنچایت نے زید کو طلب کیا تو زید نے پنچایت میں آنے سے انکار کر دیا، چنانچہ پنچایت نے دوسری تاریخ مقرر کیا اور پنچ کے لوگ خود زید کے مکان پر گئے، تو زید کے والد نے بتلایا کہ زید…
جواب
اگر نشست میں کم از کم تین ممبر موجود رہے، اور شوہر کے پاس اطلاع بھیجی کہ تم اپنی بیوی کو آباد کرو یا طلاق دے کر آزاد کرو، ورنہ فلاں تاریخ تک اگر تم نے کچھ نہ کیا تو ہم تفریق کر دیں گے، پھر مقررہ تاریخ تک شوہر نے کوئی جواب دہی نہیں کی اور دوبارہ شوہر کو اطلاع کئے بغیر تفریق کر دی تو شرعاً وہ تفریق معتبر ہوگئی اور زوجہ کو حق حاصل ہو گیا، کہ بعد عدت نکاح ثانی کرے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔