الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

عدالت کی طرف سے تفریق شرعی تفریق نہیں

سوال

(۱) میں نے یہاں لندن میں ایک مسلمان لڑکی کے ساتھ یہاں کے قانون کے مطابق سول میرج کی، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ میں نے یہاں کی کورٹ میں تین مسلمانوں کے سامنے یہ اقرار کیا کہ میں اس لڑکی کو اپنی بیوی بناتا ہوں اور اسے اپنی بیوی کی طرح قبول کرتا ہوں۔ اسی طرح میری بیوی نے بھی اس مجلس میں یہ اقرار کیا کہ وہ مجھے بحیثیت شوہر قبول کرتی ہے مگر اب تک ہمارا اسلامی نکاح نہیں ہوا ہے۔ تو آیا یہ ہمارا نکاح ہو گیا یا نہیں؟ (۲) اگر یہ نکاح ہو گیا ہے تو اگر کسی وجہ سے یہاں کا قانون صرف بیوی کی بات سن کر علیحدگی کرادے۔

جواب

(۱) مسلم گواہوں کے سامنے اس طرح کہنے سے شرعی نکاح ہو گیا ہے (۲) محض لڑکی کی خواہش پر کورٹ علیحدگی کر دے تو اس سے طلاق واقع نہیں ہوگی بلکہ وہ بدستور آپ کی بیوی رہے گی۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو