امارت شرعیہ بہار کا فیصلہ
سوال
۹۳/۲/۵ھ کو ایک استفتاء کے جواب میں آپ نے لکھا ہے کہ عدالت شرعیہ قائم کردہ امارت شرعیہ بہار میں اگر فیصلہ اتنی تاخیر سے ہو کہ اسکے انتظار میں مفاسد ہوں تو ثبوت پیش کر کے دوسری شرعی کمیٹی کے ذریعہ سے (ایک دو سال میں) تفریق کرائی جاسکتی ہے۔ خط کشیدہ عبارت کے پیش نظر سوال ہے کہ اگر یہ دونوں شرط مفقود ہو یعنی نہ اتنی تاخیر ہو، اور نہ مفاسد کا خطرہ ہو یا تاخیر تو ہو مگر مفاسد کا خطرہ نہ ہو تو شرعی کمیٹی یا پنچایت اس طرح کے مقدمہ کا فیصلہ کر سکتی ہے، یا نہیں؟ اور اس کا فیصلہ شرعاً نافذ ہو سکے گا یا نہیں؟
جواب
چونکہ امارت شرعیہ بہار میں اس کا نظم ہے، اور مقدمات فیصل ہوتے ہیں، ان حضرات کو اس کا تجربہ اور بصیرت ہے، نیز حکومت میں بھی ان کے فیصلہ کو تسلیم کیا جاتا ہے، اس لئے وہاں کا مشورہ دیا جاتا ہے، ورنہ جو بھی شرعی پنچایت” الحيلة الناجزہ“کے مطابق بنائی جائے اور وہ پوری شرائط کے ساتھ فیصلہ کر دے تو وہ معتبر اور نافذ ہوگا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔