جج کا فیصلہ فسخ نکاح میں
سوال
مسماۃ ملکی کے والد اللہ دتہ نے مسماۃ ملکی کا نکاح صغر سنی میں افضل سے کر دیا، اس وقت مسماۃ کی عمر تقریباً ۳۵ سال ہے محمد افضل نے تیرہ سال ہوئے دوسری شادی کر لی جس سے پانچ بچے بھی ہیں دوسری شادی سے پہلے مسماۃ کے والد نے افضل سے کہا کہ تم اپنی منکوحہ کو لیجاؤ دوسری شادی مت کرو، مگر محمد افضل نے انکار کر دیا کہ تیرے گھر پر ہی بٹھائے رکھونگا۔
جواب
جب کہ مدعیہ کی درخواست پر شوہر کو حاضر عدالت کر کے بیان لیا گیا اور پورے ثبوت وصفائی کے بعد عدالت کو یہ ثابت ہوا کہ مدعیہ کا بیان صحیح ہے اور شوہر اس کے حقوق ادا نہیں کرتا، اس بنا پر چودھری فضل کریم صاحب سول جج نے دونوں کے درمیان تفریق کر دی ہے تو شرعاً یہ تفریق معتبر ہے اور مدعیہ کو نکاح ثانی کا حق حاصل ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔