عدالتی طلاق
سوال
ایک لڑکی کا نکاح سوتیلی پھوپھی کے لڑکے کے ساتھ ہوا اس کی پھر بھی مخالف تھی، ایک پلیٹ پیتل کا تھا، جولڑ کے کو ساس نے دیا تھا، جو سگی پھوپھی چرالائی کیونکہ دلوں میں زق تھا، یہاں سے جھگڑا شروع ہو گیا، لڑکی قریب پانچ ماہ تک آتی جاتی رہی، جھگڑا چلتا رہا لڑکی جب بیمار ہوئی تو اپنی ماں کے گھر چلی آئی، قریب چھ ماہ تک بیمار رہی لڑکا اور کوئی متعلقین میں سے دیکھنے تک نہیں آئے، پھر بھی لڑکی کے والد نے عید کو ان کو بلوایا، انہوں نے سخت لہجہ میں جواب دیا، ہم نہیں آئیں گے، اب بدلہ لینے کا وقت آیا ہے، اب بتائیں گے، پھر بھی لڑکی…
جواب
اگر لڑکی کی درخواست پر عدالت نے شوہر کو بلوا کر اس سے طلاق دلوادی اور شوہر نے اپنی زبان سے طلاق دیدی تو شرعاً طلاق واقع ہوگئی، عدت گذر جانے پر لڑ کی کو دوسری جگہ نکاح کرنے کا حق ہے۔ اگر شوہر کو بلوا کر اس سے طلاق نہیں دلوائی بلکہ لڑکی کی درخواست پر خود فعل مختاری کی اجازت دیدی جیسا کہ آج کل بکثرت ہوتا ہے، تو اس سے شرعی طلاق نہیں ہوئی لڑکی کو دوسری جگہ نکاح کی اجازت نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔