الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

شوہر سے بیان لئے بغیر شرعی پنچایت کا فیصلہ طلاق

سوال

ایک شخص مسمی محمد عالم جو کہ چودہ سال پہلے پاکستان چلا گیا تھا، اسکی بیوی جو یہیں تھی، اس نے عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا کہ وہ آباد کرے، اسی دوران میں محمد عالم یہاں آیا اور چند دن ٹھہر کر واپس چلا گیا، اس کے جانے کے بعد اس کے بڑے بھائی عبدالعزیز نے شرعی کمیٹی میں درخواست دی کہ محمد عالم دو گواہوں کے سامنے طلاق دے گیا ہے، اس پر شرعی کمیٹی نے تحقیق کر کے فتویٰ دے دیا کہ محمد عالم کی بیوی عقد ثانی کر سکتی ہے، گواہوں کا بیان قرآن پر حلفیہ ہوا تھا، محمد عالم کی بیوی عقد ثانی کر لیتی ہے، مگر ایک ماہ بعد وہ گواہ انکار…

جواب

محمد عالم کے بھائی نے طلاق کے متعلق درخواست دی اور گواہی لے کر شرعی کمیٹی نے اس کی زوجہ کو عقد ثانی کی اجازت دیدی، اگر اس کے متعلق محمد عالم سے کوئی بیان نہیں لیا گیا، تو شرعی کمیٹی کا یہ فیصلہ خلاف شرع ہوا، غلط ہوا، دوسرا نکاح بھی غلط ہوا ہے جس کی ذمہ داری شرعی کمیٹی پر ہے، وہ عورت محمد عالم کی زوجہ ہے، اگر محمد عالم کا بیان شرعی کمیٹی نے لیا ہے تو اسکی پوری تفصیل لکھ کر…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو