الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

امارت شرعیہ بہار کا فیصلہ اہل بنگال کے لئے

سوال

ہم لوگ بنگال کے رہنے والے ہیں، بہار وبنگال کے بورڈر پر ہیں، اور یہاں پر امارت شرعیہ مدت سے قائم ہے، ہندہ جس کا شوہر بھی بنگال ہی کا ہے، امارت شرعیہ بہار میں اپنے شوہر کے خلاف کیس دائر کر دیا، اور دار القضاء میں دونوں کو طلب کیا گیا، دار القضاء سے فسخ نکاح کا فیصلہ ہوا، عدت گزرنے کے بعد مسماۃ کا دوسرے مرد سے نکاح کر دیا گیا، اب اطراف اور بستی کے لوگ اس نکاح ثانی پر شبہ ظاہر کرتے ہیں کہ بلا طلاق شوہر اول کے دوسرے جگہ نکاح کیوں کیا گیا، اس لئے اب سوال یہ ہے کہ امارت شرعیہ بہار کا فیصلہ بنگال والوں کے لئے نافذ ہو گیا…

جواب

اگر اسباب فسخ (تعنت) وغیرہ متحقق ہونے پر قواعد شرعیہ کے تحت فسخ نکاح کیا گیا ہے تو یہ فسخ معتبر ہے اور بعد عدت نکاح ثانی درست ہے، جب دار القضاء سے دونوں کی طلبی ہوئی اور دونوں نے اپنا بیان دیا تو دونوں نے اس کے فیصلہ پر بھی رضا مندی دیدی تو اب شبہ کی کیا بات ہے؟

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو