الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

پنچایت کے ذریعہ ظالم زوج سے چھٹکارہ فسخ وتفريق

سوال

مسماۃ بتول بی کا نکاح محمد شفیع سے ہوا جس کو عرصہ تین برس گزرا مگر محمد شفیع ڈاکو نکلا اور اسنے اپنے خسر محبوب علی کے گھر ڈاکہ ڈالا جب مسماۃ بتول کو معلوم ہوا تو اسنے کہا کہ یہ اشیاء میرے باپ کی ہیں، اس پر محمد شفیع نے بہت مارا اور بتول کو کوڑی میں دبا دیا، اتفاق سے بتول زندہ تھی، اور بچ گئی، اب محمد شفیع محبوب علی اور اسکی لڑکی (بتول) کو جان سے مارنے کے درپے ہے، اس صورت میں پنچایت سے فسخ نکاح مسماۃ بتول کا مطالبہ درست ہو گا یا نہیں؟

جواب

اگر تحریر کردہ واقعہ اسی طرح ہے تو یہ محمد شفیع کا بہت بڑا ظلم ہے، اب جس طرح بھی ہو سمجھا کر خوشامد کر کے لالچ دے کر اس سے طلاق حاصل کر لی جائے، یا خلع کر لیا جائے، اس طرح کہ بیوی مہر معاف کر دے اور شوہر اپنے حقوق زوجیت ختم کر دے اگر اس میں بھی کامیابی نہ ہو تو عدالت مسلم یا اس کی عدم موجودگی میں جماعت مسلمین (پنچایت)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو