جعلی قاضی کا فیصلہ طلاق کے سلسلہ میں
سوال
زید کی شادی ہوئی پانچ سال تک زن وشوہر اچھی طرح ازدواجی زندگی گزارتے رہے، زید کی بیوی نے میکہ جانیکی خواہش ظاہر کی، زید نے بخوشی ورضا مندی پہنچادیا تین چار ماہ بعد جب زید اپنی بیوی کو رخصت کرانے گیا تو بیوی کے باپ بھائی نے انکار کر دیا، بعدۂ بیوی کے باپ نے لڑکی کی طرف سے عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا، وہاں سے حکم ہوا کہ قاضی جا کر تحقیق کرے گا، مگر قاضی صاحب نہیں آئے، لڑکی کے باپ بھائی نے گاؤں کے چار پانچ نمازی آدمیوں سے دستخط لئے کہ آپ لوگوں کے لکھنے سے قاضی صاحب آجائیں گے، ان لوگوں نے دستخط دیدئیے، اس کے بعد ان…
جواب
یہ فیصلہ شرعی نہیں نہ اس سے طلاق ہوئی، نہ دوسرا نکاح درست ہوا: ولا يقضى على غائب ولا له اى لا يصح ولا ينفذ على المفتى به الا بحضور نائبه اى من يقوم مقام الغائب. در مختار ص: ۳۳۵، ج: ۴.
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔