الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تفریق عدالت سے نکاح کا اختیار

سوال

اگر عدالت نے عورت کو طلاق دیا یا لکھا تو عورت اس حکم کی وجہ سے دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے یا نہیں؟

جواب

اگر زوجہ کا بیان لے کر اور اس کی پوری شکایات کی تحقیق کر کے شوہر کو حاضر عدالت کیا اور اسباب مبیحہ فسخ نکاح کی بنا پر شوہر سے کہا کہ ان کا ازالہ کر کے شریفانہ طریق پر زوجہ کو آباد کرو، اگر نہیں کر سکتے، تو طلاق دیدو، ورنہ ہم تفریق کر دیں گے، اس پر شوہر نے دونوں صورتوں میں سے کوئی صورت اختیار نہ کی تو حاکم مسلم با اختیار نے تفریق کر دی تو شرعاً یہ تفریق معتبر ہوگی اور عورت کو…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو