قانونی فسخ نکاح
سوال
(۱) حال میں (جدید قانون) ایکٹ ۱۹۳۹ء منسوخی یا تنسیخ نکاح کا ہندوستان کیلئے گورنمنٹ سے با قاعدہ پاس ہو رہا ہے اور جس کا نفاذ ہو کر عدالت ہائے دیوانی میں مقدمات منجانب منکوحہ دائر ہو کر عمل درآمد ہو رہا ہے جناب والا کو اس قانون کا ضرور علم ہوگا۔ (۲) کیا یہ قانون فسخ نکاح، شوہر کی شکایت سخت برتاؤ، تفصیل مندرجہ قانون جو عورت کی طرف سے بصورت دعوئی ہوں ثابت ہونے پر عدالت سے عورت نکاح فسخ کرالے شرعاً درست اور صحیح ہے۔ (۳) کیا یہ قانون شرع کے لحاظ سے درست بنایا گیا ہے۔ (۴)
جواب
(۱) دیر ہوئی اس کا مسودہ دیکھا تھا۔ (۲) تفصیل مندرجہ قانون تو محفوظ نہیں، اگر عدم ادائے حقوق یا نا جائز سخت برتاؤ سے تنگ آکر شوہر کی شکایت کرے اور حاکم مسلم با اختیار واقعات کی باقاعدہ تحقیق کر کے عورت کا دعوی صحیح ثابت ہونے پر (جب کہ شوہر باوجود فہمائش حاکم ادائے حقوق اور موافق شرع برتاؤ یا طلاق کے لئے تیار نہ ہو) فسخ نکاح کر دے تو شرعا یہ فسخ نکاح صحیح اور درست ہے۔ (۳)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔