لعان
سوال
زید نے (جو ایک معمولی شخص ہے، اور کچھ قدر دینی مسائل سے واقف ہے، اور ایک دو گاؤں کے لوگ اس کو قاضی کا خطاب دیتے ہیں) زوجین کے درمیان حسب قواعد شرع لعان کروا کر تفریق کا حکم دیدیا اور کہا کہ ان ہر دو کے درمیان مطابق حدیث شریف المتلاعنان لا يجتمعان ابداً ہمیشہ کے لئے نکاح حرام ہو گیا ہے اور حلت ناممکن ہے، بکر کہتا ہے کہ زید کا یہ لعان کرانا اور تفریق کا حکم دینا درست نہیں، کیونکہ مسئلہ لعان دارالاسلام میں جاری ہوتا ہے نہ دار الحرب میں اور اس میں قضاء قاضی شرط ہے، جو اس ملک میں مفقود ندارد ہے اور بصورت تسلیم زوجین کا…
جواب
عبارات مذکورہ سے لعان کی شرائط معلوم ہوگئیں ایک شرط دارالاسلام ہونا بھی ہے، دار الحرب میں لعان نہیں، نیز نفس لعان سے تفریق نہیں ہوتی، اور ہر شخص کو لعان کا اختیار حاصل نہیں، بلکہ جس قاضی شرعی کے سامنے لعان ہوا ہے، اس کی تفریق سے تفریق ہوگی: فان التعنا بانت بتفريق الحاكم الذي وقع اللعان عنده تنوير واذا التعنا لا تقع الفرقة حتى يفرق الحاكم بينهما هدايه؟
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔